کولکاتا،6؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)ان تمام ریاستوں میں جہاں غیر بی جے پی حکومتیں قائم ہیں ، وہاں مرکز اور ریاستی حکومتوں کے درمیان ایک سرد جنگ جیسی کیفیت رہتی ہے۔ ان میں مغربی بنگال سب سے آگے ہے کیونکہ وہ مرکز کے ہر قدم کا جواب دینے کی کوشش کرتی ہے۔ اس مرتبہ معاملے سی بی آئی بنام اسپیکر کا ہے۔ یہ معاملہ عدالت میں چلا گیا تھا جہاں مرکز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عدالت میں سالیسٹر جنرل کی ساری کوششیں رائیگاں گئیں۔ مرکزی حکومت کی ساری دلیلوں کو مستردکرتے ہوۓ ناردا اسٹنگ آپریشن معاملے میں ہائی کورٹ نے سی بی آئی کے افسران کو بنگال اسمبلی کے اسپیکر بمان بنرجی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔
جسٹس راج شیکھر مانتھانے سی بی آئی کی جانب سے دائر ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے صاف صاف کہا کہ بی بی آئی افسران کواسپیکر کے روبرو ہونا ہی چاہئے ، البتہ عدالت نے یہ کہہ کر کر مرکزی حکومت کیلئے تھوڑی راحت بھی فراہم کر دی کہ اسپیکر سی بی آئی افسران کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کریں گے۔
خیال رہے کہ اسمبلی کے اسپیکر کی اجازت کے بغیر بنگال اسمبلی کے تین ممبران اسمبلی کے خلاف سی بی آئی نے عدالت میں چارج شیٹ پیش کیا ہے ۔اسپیکر نے اس سوال کا جواب جاننے کیلئے سی بی آئی عہد یدارستیندرسنگھ سمیت 5 افسران کو طلب کیا ہے۔ اسپیکر کی ہد ایت کو چیلنج کرنے کیلئے سی بی آئی نے کلکتہ ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا۔ اسے یہ بات ہضم نہیں ہو پارہی تھی کہ ایک اسمبلی کا اسپیکر سی بی آئی کے افسران کو کیسے طلب کر سکتا ہے۔سی بی آئی کی جانب سے ساللیسٹر جنرل تشار مہتا عدالت میں پیش ہوئے اور تفتیشی ایجنسی کو بچانے کی کوشش کی لیکن انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔
تشار مہتا نے کہا کہ گورنر کی اجازت سے مذکورہ اراکین اسمبلی کے خلاف چارج شیٹ پیش کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کرپشن کی تحقیقات کیلئے اسپیکر کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسمبلی کے اسپیکر کو سی بی آئی کے عہدیدار کوطلب کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ دوران سماعت اسپیکر کی جانب سے کوئی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا۔
سی بی آئی کے دلائل کی سما عت کے بعد جسٹس مانتھا نے کہا کہ اسپیکر کو سی بی آئی افسران کو طلب کرنے کا حق ہونا چاہئے اسلئے سی بی آئی کے عہدیداران کو ان کے روبرو حاضری دینی ہوگی ۔عدالت نے کہا کہ یہ اور بات ہے کہ پرنسپل افسر کے خلاف اسپیکر کوئی سخت کارروائی نہیں کر سکتا۔ اس فیصلے سے مرکزی حکومت کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ سی بی آئی افسران ،اسپیکر کے سامنے کب پیش ہوتے ہیں اور وہاں انہیں کن سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔